6 جنوری 2016 - 17:51
ایران خطےمیں کشیدگی کا خواہاں نہیں: ابراہیم جعفری

عراقی وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ملاقات اور مذاکرات کئے ہیں۔

یہ مذاکرات ایسی حالت میں انجام پائے ہیں کہ جب خطے میں سعودی عرب کے سیاسی اقدامات اپنے عروج پر ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ کے ان مذاکرات کا مقصد سعودی عرب کے اقدامات کے نتیجے میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں پیدا شدہ کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ ابراہیم جعفری نے بدھ کے دن صبح تہران پہنچنے کے فورا بعد محمد جواد ظریف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امور کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ ابراہیم جعفری نے محمد جواد ظریف کے ساتھ مشاورت سے قبل عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل سے ٹیلی فون پر تہران اور ریاض کے درمیان پیدا شدہ کشیدگی سمیت خطے کے سیاسی مسائل پر گفتگو کی تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے عراقی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں خطے میں امن و امان کے تحفظ کے سلسلے میں تعاون اور مشاورت پر مبنی ان کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ ایران خطےمیں کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے کیونکہ کسی کو بھی کشیدگی سے فائدہ نہیں ہوگا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے ایٹمی معاملے کے سلسلے میں صیہونی حکومت کا ساتھ دیا اور سیاست بازی سے کام لےکر تیل کی قیمتوں میں کمی کی لیکن ایران نے سعودی عرب کے ان اقدامات کے سلسلے میں وسعت قلبی سے کا مظاہرہ کیا۔ محمد جواد ظریف نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ریاض ایران مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایران نے ہمیشہ تدبر اور اعتدال پسندی سے کام لیتے ہوئے خطے میں قیام امن کی کوشش کی ہے۔ ہمسایہ اور علاقائی ممالک کی جانب سے منطقی پالیسی اختیار کئے جانے کی صورت میں ایران کی یہ پالیسی پایۂ تکمیل کو پہنچے گی جس کے نتیجے میں خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ سعودی عرب طاقتور ہونے کی بنا پر کشیدگی پیدا نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ اپنی کمزوری کی بنا پر یہ کام کر رہا ہے۔ بعض عرب اور افریقی ممالک کی جانب سے سعودی عرب کا ساتھ دیئے جانے سے مشکل حل نہیں ہوگی۔ ایران نے اپنی خارجہ پالیسی میں اسلامی اصولوں کے تحفظ کے تحت خطے کے عوام کے ساتھ بدسلوکی اور سعودی عرب کے مجاہد عالم دین آیت الہو باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کی ہمیشہ مخالفت کی اور اس پالیسی کا مقصد بھی خطے میں امن قائم کرنا ہے۔ لیکن سعودی عرب نے آیت الہک باقر نمر کو سزائے موت دیئے جانے کے بعد تہران اور مشہد میں سعودی عرب کے سفارتی مراکز پر ہونے والے حملوں کے بہانے کشیدگی پھیلانے والے اقدامات انجام دیئے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق اس کے باوجود تہران مذاکرات کے ذریعے خطے میں قیام امن چاہتا ہے، وہ کسی بھی ملک کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں ہے اور وہ اسلامی دنیا کے ایک حصے کے طور پر سعودی عرب نیز عرب دنیا کے احترام کا قائل ہے۔

عراقی وزیر خارجہ کا دورۂ ایران بھی اسی تناظر میں اور خطے میں قیام امن پر مبنی ایران کی پالیسی کی شناخت کے سبب سے انجام پایا ہے۔ اس دورے سے علاقے کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل کے حوالے سے عراق کی جانب سے کردار ادا کئے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔

عراقی وزیر خارجہ نے مذاکرات اور سفارت کاری کو اختلافات پھیلانے پر مبنی کوششوں کا قلع قمع کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ عراق کے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مفید تعاون بھی کرتے ہیں۔ عراق ایک آزاد ملک ہے اور اپنے ہمسایہ اور خطے کے ممالک کے ساتھ مشترکہ مفادات کا حامل ہے۔ خطے کے ممالک کے مفادات اور خطرات مشترکہ ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور صرف مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے ہی مشکلات کو حل اور مشترکہ مفادات کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ عراق اور ایران کی مشترکہ سرحد بھی کافی لمبی ہے اور دونوں ممالک کے مفادات بھی مشترکہ ہیں۔ جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تعلقات قائم ہیں۔ خطے اور عراق میں دہشت گردی کا مقابلہ اور قیام امن ایران اور عراق کے مشترکہ مفادات ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران عراق کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں وہ ہمیشہ سے عراق کی حکومت اور قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔

.......

/169